نئی دہلی،21/اکتوبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ کسی ادارے کے پالیسی ساز مسودے پر کوئی فیصلہ دینا یا پالیسیوں میں تبدیلی کی ہدایت دینا حق اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ مرکزی انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کیا جس ’بال شری یوجنا‘کے تحت ذہین طالب علموں کے انتخاب کی موجودہ پالیسی میں تبدیلی کرنے کے لئے مرکز کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ جسٹس جینت ناتھ نے کمیشن کے 11 نومبر 2018 کو انسانی وسائل وترقی کی وزارت کو دئیے حکم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایات سی آئی سی کی طاقت اور قانونی فریم ورک کے باہر ہیں۔عدالت نے یہ حکم وزارت کی اس اپیل پر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ سی آئی سی کا حکم قانون کے مطابق نہیں ہے اور جو ہدایات دی گئی ہیں وہ آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔وزارت کی جانب سے یہ درخواست ایڈووکیٹ راہل شرما اور سی کے بھٹ نے داخل کی تھی۔غور طلب ہے کہ سی آئی سی نے یہ حکم قومی اطفال بھون میں داخل آر ٹی آئی کارکن کی اپیل پر دیا تھا جس میں بال بھون کی رکنیت کے لئے عمر کی تحدید کا بیورا مانگا گیا تھا اور یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا ’بال شری ایوارڈ‘ کی اہلیت کے لئے یہ ضروری ہے۔سی آئی سی نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ذہین طالب علموں کے انتخاب کے لیے ضلع، ریاست اور قومی سطح پر صاف وشفاف فیصلے کی سخت کمی ہے اور پالیسی میں مکمل طور پرتبدیلی کی ضرورت ہے۔